درس حیات: زکوۃ کی اہمیت،مصارف، احادیث کی روشنی میں

رشحات قلم: مولانا محمد قمر انجم قادری فیضی
ایڈیٹر مجلہ پیام شعیب الاولیاء براؤں شریف

’(1) حضرت عبد الله بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے: یہ گواہی دینا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں، اور نماز قائم کرنا، زکوٰۃ ادا کرنا، حج کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا۔‘‘ [یہ حدیث متفق علیہ ہے۔]

’(2) حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص نے بارگاہِ نبوی میں عرض کیا: مجھے ایسا عمل بتائیے جو مجھے جنت میں لے جائے۔ (اس شخص کو آگے بڑھتے اور حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مخاطب ہوتے دیکھ کر لوگوں نے) کہا: اسے کیا ہوا ہے؟ اسے کیا ہوا؟ اس پر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کچھ نہیں ہوا۔ اسے مجھ سے کام ہے۔ اسے کہنے دو۔ (پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس شخص کو مخاطب کر کے فرمایا:) اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ، نماز قائم کرو، زکوٰۃ ادا کرو اور رشتہ داروں سے میل جول رکھو اور حسنِ سلوک کرو۔‘‘ [یہ حدیث متفق علیہ ہے۔]

(3):حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں ایک دیہاتی حاضر ہوا، اور اس نے عرض کیا: (یا رسول اللہ!) ایسے عمل کی طرف میری راہنمائی فرمائیں جسے انجام دینے سے جنت میں داخل ہو جاؤں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کی عبادت اس طرح کرو کہ عبادت میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو اس کا شریک نہ بناؤ۔ فرض نمازیں اور مقررہ زکوٰۃ ادا کرو اور رمضان کے روزے رکھو۔ اس اعرابی نے کہا: اس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے! میں ان اَحکام پر کوئی اضافہ نہیں کروں گا۔ پس جب وہ شخص واپس جانے کے لیے مڑا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جسے اہلِ جنت میں سے کسی کو دیکھنا پسند ہو تو وہ اس شخص کو دیکھ لے۔‘
[ یہ حدیث متفق علیہ ہے۔]

’(4) حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں: میں ایک سفر میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ تھا، ایک روز چلتے چلتے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قریب ہوگیا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے ایسا عمل بتائیں جو مجھے جنت میں داخل کر دے اور جہنم سے دور کر دے۔ حضورنبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو نے مجھ سے بہت بڑی بات کا سوال کیا، البتہ جس کے لئے اللہ تعالیٰ آسان فرما دے اس کے لئے آسان ہے، اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ، نماز قائم کرو، زکوٰۃ ادا کرو، رمضان کے روزے رکھو اور بیت اللہ شریف کا حج کرو۔ پھر فرمایا: کیا میں تمہیں نیکی کے دروازے نہ بتلاؤں؟ روزہ ڈھال ہے، صدقہ گناہوں کو بجھا (مٹا) دیتا ہے جیسے پانی آگ کو بجھاتا ہے۔‘[‘اس حدیث کو امام احمد بن حنبل، ترمذی اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے اور حدیث کے مذکورہ الفاظ ترمذی کے ہیں۔]

(5)حضرت عمیر اللیثی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر ارشاد فرمایا: نمازی اللہ کے ولی ہیں۔ جو شخص اللہ تعالیٰ کی طرف سے بندوں پر فرض کردہ پانچ نمازوں کی پابندی کرتا ہے، اَجر و ثواب کی نیت سے رمضان کے روزے رکھتا ہے، خوش دلی سے حصولِ ثواب کے لئے زکوٰۃ ادا کرتا ہے اور ان کبیرہ گناہوں سے بچتا ہے جن سے اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا ہے (وہ بھی اللہ تعالیٰ کا ولی ہے)۔ صحابہ میں سے ایک آدمی نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کبائر کتنے ہیں؟ آپ نے فرمایا: کبیرہ گناہ نو ہیں: ان میں سے سنگین ترین اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا ہے، مومن کو ناحق قتل کرنا، جنگ میں فرار ہو جانا، پاک دامن عورت پر الزام لگانا، جادو کرنا، یتیم کا مال کھانا، سود کھانا، مسلمان والدین کی نافرمانی کرنا اور بیت اللہ شریف کی حرمت کو پامال کرنا ہے۔ جس شخص کو اس حالت میں موت آئے کہ اس نے ان کبائر میں سے کسی گناہ کا ارتکاب نہ کیا ہو، نماز قائم کرتا رہا ہو اور زکوٰۃ ادا کرتا رہا ہو وہ ایسی جنت کے وسط میں محمد( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کے ساتھ ہوگا جس کے دروازوں کی چوکٹھیں سونے کی بنی ہوئی ہیں۔‘‘[ اس حدیث کو امام حاکم اور طبرانی نے روایت کیا ہے اور مذکورہ الفاظ طبرانی کے ہیں۔]

(6) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے اردگرد بیٹھے لوگوں سے فرمایا: تم مجھے چھ چیزوں کی ضمانت دو، میں تمہیں جنت کی ضمانت دیتا ہوں۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! وہ (چھ چیزیں) کون سی ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نماز و زکوٰۃ (کی ادائیگی)، امانت داری، شرم گاہ (کی حفاظت)، پیٹ (کو حرام سے بچانا)اور زبان (سے بری بات نہ کہنا)۔‘‘ [اس حدیث کو امام طبرانی نے روایت کیا ہے۔]

(7) حضرت جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے عرض کیا: یارسول الله! اس آدمی کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے جس نے اپنے مال کی زکوٰۃ ادا کردی؟ حضورنبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے اپنے مال کی زکوٰۃ ادا کر دی، اس سے اس کے مال کا شر جاتا رہا۔‘‘
[س حدیث کو امام ابن خزیمہ، حاکم اور طبرانی نے روایت کیا ہے۔ مذکورہ الفاظ طبرانی کے ہیں اور امام حاکم نے کہا: یہ حدیث صحیح ہے]

(8) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تونے (اپنے مال کی) زکوٰۃ ادا کر دی تو تو نے اپنا فرض ادا کر دیا، اور جو شخص حرام مال جمع کرے پھر اسے صدقہ کردے اسے اس صدقہ کا کوئی ثواب نہیں ملے گا بلکہ اس کا بوجھ اس پر ہوگا۔‘‘ [اس حدیث کو امام ابن خزیمہ، ابن حبان اورحاکم نے مذکورہ الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہے۔ اور امام حاکم نے کہا: یہ حدیث صحیح ہے]۔

(9) حضرت حسن بصری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اپنے مال و دولت کو زکوٰۃ کے ذریعے محفوظ بنا لو اور اپنی بیماریوں کا علاج صدقہ کے ذریعے کرو اور مصیبت کی لہروں کا سامنا دعا اور گریہ و زاری کے ذریعے کرو۔‘[‘اس حدیث کو امام ابوداود، طبرانی اور بیہقی نے روایت کیا ہے۔]

.

(10) حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، بنو تمیم کا ایک شخص رسول الله صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوا، اس نے عرض کیا: یا رسول الله! میں بہت مالدار، کثیر اہل و عیال اور خاندان والا شخص ہوں، آپ مجھے ہدایت فرما دیں کہ میں کیسے خرچ کروں اور کس کام پر کروں؟ رسول الله صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اپنے مال میں سے زکوۃ ادا کیا کرو کیونکہ زکوۃ وہ پاکیزگی ہے جو تجھے پاک کر دے گی اور اپنے رشتہ داروں کے ساتھ صلہ رحمی کیا کرو، اور سوال کرنے والے اور ہمسائے اور مسکین کاحق پہچان لیا کرو۔ اس نے عرض کیا: یا رسول الله! کچھ کم کر دیجئے۔ حضورنبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پھر قریبی رشتہ داروں، مسکینوں اور مسافروں کو ان کا حق دیا کرو اور فضول خرچی نہ کیا کرو۔ وہ کہنے لگا: یا رسول الله! بس یہ میرے لئے کافی ہے، جب میں اپنے مال کی زکوٰۃ آپ کے قاصدوں کے حوالے کر دوں تو الله اور اس کے رسول کی نگاہوں میں، میں بری ہو جاؤں گا؟ اس پر حضورنبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہاں! جب تم میرے قاصد کو زکوٰۃ ادا کر دو تو تم اس سے عہدہ برآ ہو گئے اور تمہیں اس کا اجر ملے گا اور گناہ اُس کے ذمے ہو گا جو اس میں تبدیلی کردے۔‘‘ [اس حدیث کو امام احمد اور طبرانی نے روایت کیا ہے۔]

(11)حضرت علقمہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے، عام المریسیع میں جب وہ اسلام لائے تو انہیں فرمایا: تمہارے اسلام کی تکمیل میں سے ایک یہ ہے کہ تم اپنے مال کی (کامل) زکوٰۃ ادا کیا کرو۔‘‘ [اس حدیث کو امام طبرانی نے روایت کیا ہے۔]