مدارس نے قوم کو کیا دیا؟

از: نورعین سلیمانی
سکونت: افسانہ روڈ بہادرگنج

آج کے دور میں، جب ہمارے معاشرتی حالات پر نظر ڈالی جاتی ہے، ایک سوال اٹھتا ہے کہ مدارس کا اب بھی کوئی کردار ہے؟ قوم کا کہنا ہے کہ مدرسوں کا کوئی فائدہ نہیں، لیکن میں اس سے آگے بڑھ کر کہتا ہوں کہ جو وسائل کالجوں اور یونیورسٹیوں کو ملے، وہ مدارس کے حصے میں کیوں نہیں آئے؟ لاکھوں کروڑوں کے فنڈز اور بین الاقوامی امداد کالجوں اور یونیورسٹیوں کو ملے، لیکن مدارس کا دامن خالی رہا۔ ان اداروں کو بھاری مراعات، عمارتوں، اور جدید سہولتوں کا انتظام کیا گیا، لیکن مدارس میں پڑھانے والے اساتذہ کو وہ سہولتیں نہیں ملتی ہے۔

اتنی مدد اور وسائل کے باوجود، آج بھی مدارس کے اساتذہ اور طلبہ معاشرتی تنگ نظری اور مصلحتوں کا شکار ہیں۔ لیکن ان مدارس نے، چٹائیوں پر بیٹھ کر، فقر و فاقہ برداشت کیا، فطرہ اور زکوٰۃ کے چندے مانگے، اور پھر بھی وہی طلبہ، جو وہاں پر بیٹھ کر قرآن اور دینی تعلیم حاصل کرتے ہیں، معاشرے کے لیے ایک روشن مثال بنتے ہیں۔

آج آپ جس دکاندار کو دیکھتے ہیں، جو اپنی دکان پر بیٹھ کر درجہ ناپ تول کے اصولوں کو اپناتا ہے، وہ یقینا کسی مدرسہ کے فارغ التحصیل کی محنت کا نتیجہ ہے۔ وہ جج جو اپنی کرسی پر بیٹھ کر انصاف کے تقاضے پورے کرتا ہے، وہ بھی اسی مدرسہ کی تربیت سے گزرا ہے، جو آپ کا پیش رو تھا۔ وہ صحافی، جو قلم کی حرمت کو پامال ہونے سے بچاتا ہے، وہ بھی اسی مدرسہ کا اثر ہے، جو آپ کو سچ بولنے کی تربیت دیتا ہے۔

ان مدارس نے جو تعلیم دی، وہ صرف علم نہیں، بلکہ اخلاق، کردار اور امانت داری کی بنیاد پر تھی۔ یہی وجہ ہے کہ مدارس کے فارغ التحصیل معاشرتی اعتبار سے بہترین لوگ ثابت ہوئے ہیں، خواہ وہ کسی بھی شعبے میں ہوں۔ ان مدارس نے ہمیں وہ قوت اور حوصلہ دیا کہ ہم اپنے مسائل کا حل خود ڈھونڈ سکیں اور دوسروں کی مدد کر سکیں۔

اب یہ سوال اٹھتا ہے کہ اتنی محنت اور قربانیوں کے باوجود، جب مدارس کی اہمیت اور کردار کا سوال آتا ہے، تو کیوں ان کا ذکر کم ہوتا ہے؟ کیوں کچھ لوگ ان کی قربانیوں اور محنتوں کو نظرانداز کرتے ہیں؟ کیوں ان مدارس کو حقیر سمجھا جاتا ہے، جب کہ وہ ہر میدان میں بے شمار کامیاب افراد کی پشت پر ہیں؟ یہ وہ مدارس ہیں جو اپنے طلبہ کو محض دینی علم نہیں دیتے بلکہ انہیں انسانیت کی خدمت کا جذبہ بھی سکھاتے ہیں۔

آپ جتنا چاہیں اپنے معاشرے میں خیر اور بھلا ئی تلاش کریں، ان تمام خوبیوں کا تعلق ان مدارس اور علماء سے ہی ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو، مشکلات کے باوجود، اپنے طلبہ کو تعلیم دیتے ہیں اور ان میں ایسا ایمان پیدا کرتے ہیں جو پورے معاشرے کے لیے فائدہ مند ثابت ہوتا ہے۔ ان مدارس نے پورے معاشرتی نظام کو مضبوط کیا ہے، خواہ وہ مسجدوں میں اذان دینے والے ہوں، یا عدالتوں میں انصاف کے تقاضے پورے کرنے والے ججز ہوں۔

بدقسمتی سے، جب کبھی مدارس اور علماء کی خدمات کا ذکر آتا ہے، تو کچھ لوگ سوال اٹھاتے ہیں کہ ان مدارس نے قوم کو کیا دیا؟ ان لوگوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ ان مدارس نے، حالات کی سختیوں کو جھیلتے ہوئے، وہ سب کچھ دیا جو معاشرے کے لیے ضروری تھا، چاہے وہ علم ہو یا روحانیت۔ مدارس ہی وہ ادارے ہیں جنہوں نے آج کے کامیاب اور باعزت افراد کی بنیاد رکھی۔

اگر آپ اپنے علاقے میں دیکھیں، تو آپ کو بہت سی ایسی شخصیات ملیں گی جو کسی مدرسہ یا عالم سے ہی متاثر ہو کر اپنے میدان میں کامیاب ہوئیں۔ آپ ایک غور سے جائزہ لیں، اور آپ کو معلوم ہوگا کہ مدارس کا اثر پورے معاشرے پر بہت گہرا ہے، جو ان کی خاموش محنتوں کا نتیجہ ہے۔

کیا آپ اپنے علاقے کے ایم این اے، پی ایم اے یا کسی اور صاحب حیثیت کو اس کامیابی کا کریڈٹ دے سکتے ہیں؟ نہیں، ان تمام خوبیوں کا تعلق ان مدارس سے ہے جو اپنے محدود وسائل میں رہ کر قوم کی خدمت کر رہے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنی تنخواہوں کو بھی چندہ اور فطرہ سے پورا کرتے ہیں اور اس کے باوجود قوم کو کامیاب بنانے میں لگے رہتے ہیں۔

مدارس نے ہمیشہ ہمیں یہ سکھایا ہے کہ تعلیم صرف کتابوں تک محدود نہیں ہوتی، بلکہ یہ دلوں اور دماغوں کی تعمیر کا عمل ہے۔ یہ وہ ادارے ہیں جو معاشرتی تبدیلی کے اصل محرک ہیں، کیونکہ جب انسان کا کردار مضبوط ہوتا ہے، تو پوری قوم کی تقدیر بدل جاتی ہے۔

آخر میں، یہ بات کہنا چاہوں گا کہ جو لوگ مدارس اور علماء کو نیچا دکھانے کی کوشش کرتے ہیں، انہیں یہ حقیقت یاد رکھنی چاہیے کہ جو عزت اور مقام اللہ تعالیٰ مدارس اور ان کے اساتذہ کو دیتے ہیں، وہ کسی اور کو نصیب نہیں ہوتا۔ آج اگر ہمارے معاشرے میں اخلاق، تعلیم اور دین کی اہمیت ہے، تو اس کا کریڈٹ ان مدارس اور ان کے علماء کو جاتا ہے