نصابی کتاب میں تبدیلی: طلباء کے ذہن و دماغ پر کیا اثرات مرتب ہوں گے؟
تحریر: حافظ افتخار احمد قادری
کریم گنج، پورن پور،پیلی بھیت، یوپی iftikharahmadquadri@gmail.com
دنیا کی ترقی یافتہ قومیں وقت اور حالات کے تقاضوں کے مطابق اسکولی نصاب میں تبدیلیاں کرتی رہتی ہیں تاکہ اپنی نئی نسل کو عصری حالات سے ہم آہنگ کیا جاسکے۔ آزادی کے بعد اسکولوں کے نصاب کو مستحکم اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگی کے لئے مرکزی حکومت نے ایک خود مختار ادارہ نیشنل کونسل آف ایجوکیشنل ریسرچ اینڈ ٹریننگ (این سی ای آر ٹی) قائم کیا۔ جس نے قومی بیانیے اور ریاست کے نظریہ کو مستحکم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ عصری دریافت اور سماجی تبدیلیوں سے نصاب کو ہم آہنگ کرنے کے لئے اس ادارے نے کئی مرتبہ نصاب میں تبدیلیاں کی مگر یہ بھی ایک المیہ ہے کہ ملک کے دیگر اداروں کی طرح اس وقت یہ ادارہ بھی سیاسی دباؤ کا شکار ہے۔ کل روز نامہ انقلاب دہلی کے صفحہ اول پر یہ خبر پڑھی کہ این سی ای آر ٹی نے ساتواں جماعت کی نصابی کتاب سے مغل اور دہلی سلطنت کے ابواب کو غائب کر دیا ہے جس سے کئی سوالات نے جنم لے لیا اور ساتھ ہی اس کے مقاصد اور منشا پر بھی سوالات کھڑے ہو رہے ہیں۔ کیوں کہ تبدیلیاں وہی کی گئیں ہیں جو ہندوتوا کی سوچ و فکر سے متصادم تھیں یا پھر ہندو راشٹر کے قیام کی راہ میں روکاوٹ بن سکتی تھیں۔ یقیناً یہ ساری تگ و دو ہندو راشٹر کے خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے کے لئے ہی کی جا رہی ہیں۔
دراصل تاریخی معروضات اور حقائق سے مکمل طور پر انحراف کے بغیر ہندو راشٹر کا خواب پورا نہیں ہوسکتا۔ جدید ٹکنالوجی اور سائنٹفکٹ دور میں مکمل طور پر تاریخی حقائق سے انحراف نا ممکن ہے۔ ہندوستانی معاشرہ میں برہمنوں کا جبر، طبقاتی تفریق، ذات پات کی بنیاد پر سماجی تفریق، صنفی عدم مساوات ہندوستانی معاشرے کی حقیقت ہے۔ خود ہندو مصلح کاروں نے بڑے پیمانے پر مذہبی اصلاحات کی کوششیں کی ہیں۔ اٹھارہویں اور انیسویں صدی میں ودیا ساگر، راجہ رام موہن رائے اور سوامی ویویکانند جیسی شخصیات نے بڑے پیمانے پر اصلاحی مہمیں چلائیں اور بہت ساری سماجی برائیوں کا خاتمہ کیا۔ بیسویں صدی میں بابا صاحب امبیڈکر نے برہمنی جبر کے خلاف زور دار تحریک چلائی یہ ان کی کوششوں کا ہی نتیجہ تھا کہ ہندوستان کے آئین میں سماجی پسماندگی کے شکار دلت اور قبائلیوں کو خصوصی مراعات دی گئیں۔
سیاسیات، سماجیات اور تاریخ ایسے موضوعات ہیں جن کے ذریعہ طلباء کے ذہن و دماغ کے دریچے کھولے جاتے ہیں۔ تخلیقی ذہن اور بلند خیالی پیدا کرنے کے علاوہ ماضی کے اسباق سے نتائج حاصل کرنے اور پھر اس کے تدارک کے لئے ذہن و دماغ کو تیار کیا جاتا ہے۔ مختلف قوموں کی تاریخ ان کے عروج و زوال کی داستان، اس معاشرے کی سماجی، علمی اور معاشی تحریکوں کا مطالعہ نہ صرف ماضی کی دریافت ہوتا ہے بلکہ مستقبل بینی میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ایسے میں یہ سوال لازمی طور پر پیدا ہوتا ہے کہ تحریف شدہ حقائق اور معروضیت سے عاری نصاب سے طلباء کے ذہن و دماغ کی آبیاری کس طرح کی جا سکتی ہے؟ اس طرح کے نصاب کو پڑھنے کے بعد طلباء کے ذہن و دماغ پر کیا اثرات مرتب ہوں گے؟
دائیں بازو کی مسلسل کوشش رہی ہے کہ عہد قدیم کے ہندوستان کو مثالی ہندوستان قرار دیا جائے۔ اس کے لئے غیر سائنٹفک دعوے کئے جاتے رہے ہیں، کبھی کبھی ایسے مضحکہ خیز دعوے کئے گئے جو ہندوستان کی بدنامی کا ذریعہ بھی بنے۔ ان کا خیال ہے کہ نصابی کتابوں میں عہد قدیم میں ہندوستانی معاشرے میں طبقاتی تفریق، سماجی نا انصافی کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا ہے۔ برہمنی جبر کو حقائق سے کہیں زیادہ پیش کیا گیا ہے۔ چناں چہ این سی آرٹی کے حالیہ ترامیم میں ذات پات کی تفریق، مندروں میں برہمنوں کی اجارہ داری اور صنفی عدم مساوات کے ذکر کو ختم کرکے ہندوستان کے عہد قدیم کو ایک معاشرہ کے اعتبار سے پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ گزشتہ پانچ دہائیوں کے درمیان مؤرخین اور سوشل سائنس دانوں نے ہندوستانی معاشرے میں ذات پات کی تفریق، سماجی ناہمواریوں اور صنفی عدم مساوات کو سیاق و سباق میں اس طرح سے پیش کیا تھا تاکہ ان سماجی برائیوں کے خلاف مقابلہ کیا جاسکے۔ سوشل سائنس کی کتابوں میں سب سے بڑی تبدیلی مسلم دور حکومت سے متعلق ابواب کو ہٹاکر کی گئی ہے۔ ہندوستان کی آزادی کے بعد سے ہی مسلم حکمرانوں کی کردار کشی اور تاریخی حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے آغاز ہوگیا تھا۔ تاہم موجودہ حکمراں جماعت اور اس فکر کے حاملین کا مسلم حکمرانوں کو دیکھنے کا نظریہ سب سے مختلف ہے۔ مسلم دور حکومت میں ہندوستان کی تعمیر و ترقی کے وہ یکسر منکر ہیں۔ بارہویں صدی سے لے کر اٹھارہویں صدی کو وہ مسلم حکمرانی کے طور پر دیکھتے ہیں۔ ان سات صدیوں میں ہندوستان نے مختلف شعبہ حیات میں نمایاں ترقی کی اور بڑے پیمانے پر سماجی و معاشرتی اصلاحات ہوئیں۔ علاقائیت کے بجائے مضبوط ہندوستان کی تعمیر ہوئی،اقتصادی طور پر ہندوستان مستحکم ہوا، فن و آرٹ میں ملک نے نمایاں ترقی کی، ان سات دہائیوں میں مندر اور مساجد اور دیگر یادگار عمارتیں تعمیر ہوئیں جو آج بھی ہندوستان کا تاریخی ورثہ ہیں۔ سمندری راستے کھلے، ہندوستان کی یہی جغرافیائی حیثیت نو آبادیات کا سبب بھی بنی اور دنیا کی توجہ ہندوستان کی جانب مبذول ہوئی مگر نصاب میں ان حقائق کی موجودگی سے مسلم حکمرانوں کو لٹیرے اور ہندو دشمن بنانے کے بیانیے کو نقصان پہنچ سکتا تھا اس لئے سرے سے ہی مسلم حکمرانوں کے ذکر کو ختم کیا جارہا ہے۔
ہندوستان کی تحریک آزادی میں سبھی قوموں اور افراد نے مل کر حصہ لیا نتیجے میں ایک قوم کا تصور ابھر کر سامنے آیا جس میں تنوع اور اختلافات کے ساتھ ملک کی سالمیت اور آزادی کے حصول کے لئے مشترکہ کوششیں کی گئیں۔ نصابی کتاب سے تقسیم کے سانحہ، ملک کی آزادی کے بعد ملک کو متحد کرنے کی کوششوں کے ذکر کو نصابی کتابوں سے ہٹانے کے پیچھے ذہنیت یہی ہے کہ نہرو اور گاندھی کا آئیڈیا آف انڈیا جس میں تمام طبقات اور افراد کو ملک کا ناگزیر اکائی قرار دیا گیا تھا ختم کر دیا جائے اور اس کی جگہ ساورکر اور گولوالکر کی فکر کو سامنے لایا جارہا ہے جس میں مسلمانوں اور عیسائیوں کو دوسرے درجہ کا شہری قرار دیا گیا تھا۔ آج ساتویں جماعت کی سماجی علوم کی کتاب سے مغل اور دہلی کے ابواب کو غائب کرنے کے پیچھے بھی یہی ذہنیت کار فرما ہے اور یقیناً این سی آر ٹی کی یہ ایکسرسائز ہندو راشٹر کے تصور کو مستحکم کرنے کی حکمت عملی کا ایک حصہ ہے۔ اگر آپ پوری قوم کو ایک ہی رنگ میں رنگنے کی کوشش کریں گے تو اس کی قیمت ہندوستانی سماج کو بڑے پیمانے پر چکانی پڑے گی۔کیوں کہ ہندوستان مختلف تضادات، تنوع اور نظریاتی و فکری اختلافات کے باوجود رواداری اور قوت برداشت کا حامل ملک رہا ہے۔ ہم نے خوش دلی سے ایک دوسرے کی تہذیب و کلچر اور معاشرتی زندگی کو قبول کیا ہے۔ یہی خوبی ہندوستان کو دنیا کے دیگر ممالک سے ممتاز کرتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی ہندوستانی معاشرے ہمیشہ اصلاحات کی کوششوں کو سراہا ہے اور اسے قبول کیا ہے مگر حالیہ دنوں میں سب سے زیادہ رواداری پر حملے کئے گئے اور اتحاد کے نام پر تنوع کو ختم کرنے کی کوشش کرکے اپنی فکر اور سوچ کو جبر کے ساتھ نافذ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ اگر طلباء ذات پات کے جبر اور اس کے بنیادی عوامل کا مطالعہ نہیں کریں گے تو وہ ذات پات کی حقیقت کو نہ سمجھ پائیں گے اور نہ مستقبل میں ذات پات کی تفریق کے خلاف کھڑے ہونے کا حوصلہ کرسکیں گے۔ اس نصاب کو پڑھنے والے بچے ہندوستان کے دستور کی روح اور قدروں کو سمجھنے میں ناکام رہیں گے۔ ایک اہم بات یہ ہے کہ جمہوری ملک میں صرف تمام طبقات کو یکساں مواقع فراہم کرنا ہی کافی نہیں ہے بلکہ نصاب میں بھی ان کی تاریخ اور ثقافت و کلچر کو نمائندگی ملنی چاہیے۔ اس کے بعد ہی ہندوستان عملی طور پر تنوع میں اتحاد کا نمونہ بن سکتا ہے۔ علاوہ ازین تاریخ اور میتھالوجی کو خلط ملط کرنے سے نہ صرف تاریخی حقائق کو نقصان پہنچتا ہے بلکہ میتھالوجی کے تئیں ایمان و یقین کمزور ہوتا ہے۔
اس لئے مسائل کی نشاندہی کے ساتھ اس کے ازالے اور تدارک کی تدابیر پر غور وفکر کرنے اور اس کو روبہ عمل لانے کے لئے حکمت عملی اور منصوبہ سازی نہایت ضروری ہے تاکہ نصابی کتابوں میں موجودہ تبدیلی کے منفی اثرات اور طلباء کی تنقیدی سوچ کے عدم فروغ کی وجہ سے تخلیقی صلاحیت سے محرومی کے معاشرے کو جو نقصانات ہوں گے اس کا مقابلہ کیا جاسکے۔ علاوہ ازیں اقلیتوں کے تئیں نا انصافی اور مسلم دور حکومت کوغلط تناظر میں پیش کرنے کی کوششوں کا سب سے زیادہ منفی اثر مسلم سماج پر پڑنے کا امکان ہے۔ مسلمانوں کے تئیں برادرانِ وطن میں منفی سوچ میں اضافہ ہوگا اور تقسیم کی دراڑیں مزید مضبوط اور گہری ہوں گی۔ ظاہر ہے کہ اس کا نقصان سب سے زیادہ مسلمانوں اور سماج کے پسماندہ طبقات کو برداشت کرنا پڑے گا۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا مسلم سماج اور ملی ادارے ان چیلنجوں کا مقابلہ اور اس سے ہونے والے نقصانات کے تدارک کے لیے تیار ہیں؟
تعلیم کا مسئلہ بہت ہی زیادہ سنجیدگی کا طالب ہے مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ بحیثیتِ مسلم قوم تعلیم کے مسائل اور اس شعبے میں آنے والے چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے لئے ہم نے اس سطح پر کام نہیں کیا جس کا وہ متقاضی ہے۔ اس رویے کا ہمیں ناقابل تلافی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ ہندوستان کی آزادی کے بعد اسکولی نصاب کی تدوین میں لیفٹ نظریات کے حاملین نے اہم رول ادا کیا۔لیفٹ سے وابستہ دانشور اور ماہرین کی ایک اپنی سوچ وفکر رہی۔ موجودہ حکومت اس سوچ کی شدید مخالف ہے۔ اسے شکایت ہے کہ لیفٹ نظریات کے حاملین دانشوروں نے ہندو مذہب کو نظر انداز کیا ہے۔ اقتدار میں آنے کے بعد سے ہی یہ قوتیں اپنے نظریات و فکر کے مطابق نصاب کی از سر نو تدوین کرنے کی کوشش کررہی ہیں۔ چوں کہ اقتدار کی وجہ سے بے پناہ طاقتیں حاصل ہو جاتی ہیں اس لئے وہ تیزی سے اس پر کام کر رہے ہیں۔ ظاہر ہے کہ اس کے منفی اثرات نہ صرف طلباء کے ذہن و دماغ پر پڑیں گے بلکہ سماج و معاشرہ بھی متاثر ہوں گے۔ اصلاحات اور سماجی انصاف کے حصول کی راہیں محدود ہوں گی۔ اس لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلم دانشوران اور ماہرین تعلیم ملک کے سامنے متبادل ایسا نصاب تعلیم پیش کریں جس میں تنوع کے ساتھ اتحاد اور یک جہتی کے جذبات کار فرما ہوں اور سماج و معاشرہ کے تمام طبقات کی حصہ داری ہو۔
