مسلمانوں کا مشکل مستقبل اور بڑھتی فضول خرچی

محمد شاہد علی مصباحی
روشن مستقبل دہلی

دنیا کے بدلتے ہوئے حالات ایک خاموش طوفان کی مانند ہمارے سروں پر منڈلا رہے ہیں۔ مہنگائی کی چنگھاڑ، سیاسی انتشار کی دھول، اور اخلاقی زوال کی سرسراہٹ ہمیں کسی بڑے بحران کا پیش خیمہ دکھا رہی ہے۔ ایسے میں مسلمانوں پر ایک سخت اور کٹھن وقت آنے کو ہے، جس سے صرف وہی قوم بچ سکے گی جو عقل و دانش سے کام لے، فضول رسم و رواج کی زنجیروں کو توڑے، اور اپنی دولت کو حکمت و بصیرت سے استعمال کرے۔

آج ہم جن مہنگی شادیوں، تیجوں، چالیسویں، بے جا جلسوں، جلوسوں اور عرسوں پر لاکھوں روپے خرچ کر رہے ہیں، وہ دراصل اس بیمار معاشرے کی علامتیں بن چکی ہیں جو دکھاوا، ریاکاری اور جھوٹی شان و شوکت کے خمار میں مبتلا ہے۔ مہندی کی راتیں، ڈھول کی تھاپ، چار چار دن کے کھانے، قیمتی ملبوسات اور جہیز کے پہاڑ – یہ سب ایسے کانٹے ہیں جو نہ صرف غریبوں کے لیے زہر ہیں بلکہ پورے معاشرے کو دیمک کی طرح چاٹ رہے ہیں۔

ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سادگی کو پسند فرمایا، نکاح کو آسان بنایا، اور کسی بھی کام میں اسراف و تبذیر سے منع کیا۔ ارشادِ ربانی ہے:

"اِنَّ المُبَذِّرِينَ كَانُوا إِخْوَانَ الشَّيَاطِينِ”
(بے شک فضول خرچی کرنے والے شیطانوں کے بھائی ہیں) – سورۃ الاسراء، آیت 27

مگر افسوس، ہم نے دین کی اصل روح کو پسِ پشت ڈال کر ایک ایسی راہ اختیار کر لی ہے جو ہمیں زوال کی طرف لے جا رہی ہے۔ اگر ہم آج بھی نہ جاگے، تو آنے والا وقت ہماری آنکھیں کھولنے سے پہلے ہمارے ہاتھ خالی کر دے گا۔

مشکل وقت جب آتا ہے تو وہ صرف پیسوں یا خوراک کی کمی نہیں لاتا، بلکہ عزت، غیرت، علم، تہذیب، ہر شے کو آزماتا ہے۔ اگر آج ہم نے اپنی دولت، جو درحقیقت ایک امانت ہے، کو فضول خرچی کے بجائے مفید مقاصد کے لیے استعمال نہ کیا، تو کل یہی دولت ہمارے کسی کام نہ آ سکے گی۔

قوموں کا مستقبل ان کے بچوں کی تعلیم و تربیت سے وابستہ ہوتا ہے۔ اگر ہمیں واقعی اپنے حال اور مستقبل کی فکر ہے، تو ہمیں اپنی دولت کو مہنگی تقاریب کے بجائے ان اسکولوں، مدرسوں، لائبریریوں، اور تربیتی اداروں میں لگانا ہوگا جہاں علم کے چراغ جلتے ہیں، اور جہاں سے وہ نسل تیار ہوتی ہے جو قوم کی کشتی کو طوفانوں سے بچاتی ہے۔

آج بھی اگر ہم مہنگی شادیوں کے صرف ایک سال کے مجموعی اخراجات کو جمع کریں، تو سیکڑوں اسکولوں کی تعمیر، ہزاروں بچوں کی تعلیمی کفالت اور درجنوں علمی منصوبے ممکن ہو سکتے ہیں۔ ہمارے بچے جو آج جہالت، غربت اور غیر تربیت یافتہ ماحول کا شکار ہیں، کل وہی ہمارے روشن یا تاریک مستقبل کا تعین کریں گے۔

ادب، فکر اور دین – تینوں یہی کہتے ہیں کہ وقت کی قدر کرو، دولت کو ضائع نہ کرو، اور اپنی ترجیحات درست کرو۔ علامہ اقبال نے کیا خوب فرمایا:

افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ”

اگر آج کا ہر فرد اس بات کا عزم کر لے کہ وہ فضول خرچی سے بچ کر تعلیم و تربیت میں اپنا حصہ ڈالے گا، تو کل ایک ایسی نسل اُبھرے گی جو نہ صرف امتِ مسلمہ کو درپیش چیلنجز کا سامنا کر سکے گی بلکہ دنیا کی قیادت بھی سنبھالے گی۔

آخر میں یہی کہنا کافی ہے کہ وقت ایک خاموش استاد ہے، جو ہمیں سبق ضرور دیتا ہے، مگر شرط یہ ہے کہ ہم سننے اور سیکھنے کو تیار ہوں۔ آئیں، فضول خرچی کے اس رستے سے پلٹیں، اور تعمیرِ ملت کے اس سفر میں اپنا کردار ادا کریں۔
23 اپریل 2025

رکن: تحریک علماے بندیل کھنڈ
ناظم تعلیمات: جامعہ امام اعظم ابو حنیفہ ، باگی، جالون