عید قرباں کا پیغام: امتِ مسلمہ کے نام

ازقلم: (علّامہ) سید نوراللّٰہ شاہ بخاری
مہتمم و شیخ الحدیث: دارالعلوم انوارِ مصطفیٰ
و سجادہ نشین: خانقاہ عالیہ بخاریہ سہلاؤ شریف، باڑمیر (راجستھان)

قربانی کا لفظ “قرب” سے ماخوذ ہے، اور عربی زبان میں قُرب کا مطلب ہے: "نزدیکی، تقرب، یا پاس آنا”۔ اصطلاحِ شریعت میں قربانی اس مالی عبادت کا نام ہے جس کے تحت مخصوص جانور کو مخصوص ایام میں، خالص نیت اور اللہ تعالیٰ کی رضا و قرب حاصل کرنے کے لئے ذبح کیا جاتا ہے۔ قربانی کے اس عظیم عمل کے ذریعے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو سبق دیتا ہے کہ دین سراپا تسلیم و رضا کا نام ہے۔ جب ربِ کریم کا کوئی حکم آجائے تو ایک سچے بندۂ مومن کا فرض ہے کہ بلا چون و چرا اُس پر عمل کرے، خواہ عقل اس کی حکمت کو سمجھے یا نہ سمجھے، کیونکہ ہر حکم ربِ ذوالجلال کی طرف سے سراپا حکمت و مصلحت پر مبنی ہوتا ہے۔

عیدالاضحیٰ محض جانور ذبح کرنے کا نام نہیں، بلکہ اس کے پس پردہ ایک عظیم پیغام اور روحانی سبق پوشیدہ ہے۔ یہ حضرت ابراہیم خلیل اللہ و حضرت اسماعیل ذبیح اللہ علیہما السلام کی بے مثال اطاعت و تسلیم کی وہ زندہ وجاوید داستان ہے جسے ہر سال لاکھوں مسلمان اپنے عمل کے ذریعے زندہ کرتے ہیں۔ حضرت خلیل اللہ نے جب اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل میں اپنے پیارے بیٹے حضرت اسماعیل کو قربان کرنے کا ارادہ کیا تو وہ صرف ایک نبی کی فرمانبرداری نہیں تھی بلکہ محبتِ الٰہی میں فنا ہوجانے کی ایک روشن مثال تھی۔ اللہ تعالیٰ نے اس اطاعت و اخلاص کو اس قدر پسند فرمایا کہ اسے قیامت تک کے لیے اہلِ ایمان پر لازم کردیا۔

رب تعالیٰ قرآنِ حکیم میں اعلان فرماتا ہے:

"لَنۡ یَّنَالَ اللّٰہَ لُحُوۡمُہَا وَ لَا دِمَآؤُہَا وَ لٰکِنۡ یَّنَالُہُ التَّقۡوٰی مِنۡکُمۡ”
(سورہ الحج، آیت: 37)
ترجمہ: "اللہ تک نہ ان (قربانی کے جانوروں) کا گوشت پہنچتا ہے، نہ خون؛ بلکہ اس تک تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے۔”

یہ آیت ہمیں اس حقیقت سے آشنا کرتی ہے کہ اللہ رب العزت کی بارگاہ میں اصل مقبولیت نیت، اخلاص اور تقویٰ کی ہوتی ہے، نہ کہ ظاہر کا جاہ و جلال۔ لہٰذا ہمیں قربانی سے پہلے اپنے دل کا محاسبہ کرنا چاہیے کہ ہم جانور کی قربانی رب کی رضا کے لیے کر رہے ہیں یا محض دکھاوے اور شہرت کی غرض سے؟ اگر نیت خالص ہے، تو قربانی کا ہر قطرۂ خون رحمت کا باعث بنے گا، اور اگر نیت میں کھوٹ ہے تو عمل کھوکھلا رہ جائے گا۔

قربانی کا اصل پیغام یہ ہے کہ بندہ اپنی خواہشات، جھوٹی انا، خود غرضی اور مال و متاع کی محبت کو اللہ تعالیٰ کے حکم کے سامنے قربان کردے۔ قربانی کا یہ جذبہ صرف جانوروں تک محدود نہ رہے، بلکہ ہماری زندگی کے ہر پہلو میں سرایت کرے – خواہ وہ معاملاتِ تجارت ہوں، ملازمت، معاشرت یا سیاست۔ ہم ہر حال میں یہ عہد کریں کہ ہمارے فیصلوں کا مرکز و محور صرف رضائے الٰہی ہوگا۔

ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ قربانی کی حقیقی روح ایثار، فداکاری، اطاعت، صبر و رضا، اور توکل علی اللہ ہے۔ جو بندے اللہ وحدہ لاشریک سے سچی محبت رکھتے ہیں، وہ دنیا کی ہر محبوب شے کو، خواہ وہ مال ہو یا اہل و عیال، اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر قربان کرنے سے دریغ نہیں کرتے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں انسان اپنے رب کا خالص بندہ کہلاتا ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جس عظیم امتحان میں کامیابی حاصل کی، وہ اس بات کا اظہار تھا کہ محبتِ الٰہی کے راستے میں کوئی بھی رکاوٹ بندے کے قدموں کو متزلزل نہیں کر سکتی۔

عید قرباں ہمیں یاد دلاتی ہے کہ جو بندہ اللہ تعالیٰ کے جتنا قریب ہوتا ہے، اس پر آزمائشیں بھی اتنی ہی سخت ہوتی ہیں۔ لیکن یہ آزمائشیں درحقیقت اللہ تعالیٰ کی قربت کا ذریعہ بنتی ہیں۔ اللہ والوں کی زندگیاں اس حقیقت کی ترجمانی کرتی ہیں کہ قربانی ہی وہ راستہ ہے جو انسان کو اعلیٰ مقام پر فائز کرتا ہے۔ ہم اگر حضرت ابراہیم و اسماعیل علیہماالسلام کی سنت پر عمل پیرا ہیں تو ہمیں اپنے عہد و پیمان کی تجدید کرنی ہوگی کہ جب وقت آئے تو ہم دین، ملت، اور انسانیت کی بقا کے لئے کسی بھی قربانی سے دریغ نہ کریں گے۔

امت مسلمہ کو چاہیے کہ عیدالاضحیٰ کو محض تہوار نہ سمجھیں بلکہ اسے تربیت، تجدیدِ عہد اور اصلاحِ نفس کا ذریعہ بنائیں۔ ہر قربانی کرنے والے کے لئے ضروری ہے کہ وہ صرف جانور کی قربانی پر اکتفا نہ کرے بلکہ اپنی اندرونی کمزوریوں، گناہوں، خواہشاتِ نفس، حسد، کینہ، بغض اور تکبر جیسی باطنی آلائشوں کو بھی قربان کرے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم وقت کے ہر نمرود کے خلاف حق گوئی کی جرأت اپنے اندر پیدا کریں، اور اگر دین و ملت کے تحفظ کے لئے اپنا گھر، مال، وطن، یا یہاں تک کہ اپنی اولاد کو بھی قربان کرنا پڑے تو ہم ہمت و حوصلہ سے آگے بڑھیں۔

یا اللہ! ہمیں قربانی کی روح کو سمجھنے، اس پر عمل کرنے، اور اس کے ذریعہ اپنی رضا حاصل کرنے کی توفیق عطا فرما! ہماری قربانیوں کو قبول فرما، اور ہمیں سچا مسلمان بننے کی سعادت عطا فرما!
آمین ثم آمین بجاہ سید المرسلین(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)