جمالِ مصطفیٰ کی دلکشی آنکھوں میں رہتی ہے

از : طفیل احمد مصباحی

بتاؤں کیا تمہیں کیسی خوشی آنکھوں میں رہتی ہے
جمالِ مصطفیٰ کی دلکشی آنکھوں میں رہتی ہے

خیالوں میں بسی ہے گیسوئے و اللیل کی خوشبو
رخِ والشمس کی تابندگی آنکھوں میں رہتی ہے

محبت کیسی جس میں گریہ و زاری نہ ہو شامل
‘ کروں جب آپ کی باتیں نمی آنکھوں میں رہتی ہے ‘

اودھؔ کی شام یا صبحِؔ بنارس کیوں بھلا دیکھوں
سگِ طیبہ ہوں طیبہ کی گلی آنکھوں میں رہتی ہے

‘ لقد کان لکم اسوہ ‘ کی آیت جب بھی پڑھتا ہوں
نبی کی سیرتِ اقدس مری آنکھوں میں رہتی ہے

بنایا ہے خدا نے مصطفیٰ کو اجمل و احسن
نبی کے حسن کی رخشندگی آنکھوں میں رہتی ہے

خدائے پاک نے بخشا ہے اعجازِ مسیحائی
مسیحائی مرے سرکار کی آنکھوں میں رہتی ہے

نبوت کے مہِ تاباں ٬ رسالت کے مہِ کامل !!
طرب افزا تری تابندگی آنکھوں میں رہتی ہے

مدینہ وہ جہاں ہوتی ہے پیہم نور کی بارش
اسی دار الاماں کی روشنی آنکھوں میں رہتی ہے

دو عالم سے جو کر دیتی ہے مستغنی دوانے کو
وہی سر مستی و دیوانگی آنکھوں میں رہتی ہے

نبی کی نعت گوئی کا ارادہ جب بھی کرتا ہوں
امام احمد رضا کی شاعری آنکھوں میں رہتی ہے

تلاوت سورۂ والشمس کی کرتا ہوں جب احمدؔ
رخِ روشن کی دلکش چاندنی آنکھوں میں رہتی ہے